بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالوں کو جلانے کا حکم

سوال

اگر ہمیں ڈر ہو کہ ہمارے بالوں پہ کوئی جادو کر دے گا تو کیا ہم اپنے بالوں کو جلا سکتے ہیں یا نہیں؟ اور ہمارے گھر کے آس پاس دریا یا مٹی وغیرہ نہ ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ 

جواب

واضح رہے کہ بال   جلانا درست نہیں ہے،اس لیے کہ یہ انسان کا جزء ہے جو کہ قابل احترام ہے ،اس کا حکم یہ ہے کہ   بالوں  کو دفنادیا جائے  اور اگر دفنانا ممکن نہ ہو  تو   کسی کپڑے یا کاغذ میں لپیٹ کر کہیں ڈال دیں لیکن بالوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں تاکہ جادو وغیرہ کا اندیشہ نہ ہو ۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :

"و في الخانية: ينبغي أن يدفن قلامة ظفره و محلوق شعره و إن رماه فلا بأس و كره إلقاؤه في كنيف أو مغتسل لأن ذلك يورث داء وروي أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بدفن الشعر و الظفر و قال: لاتتغلب به سحرة بني آدم اهـ و لأنهما من أجزاء الآدمي فتحترم."

(کتاب الصلاۃ،باب  الجمعۃ،ص:527،دارالکتب العلمیۃ)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

"بال اورناخن کو جلانا جائز نہیں، ایسی عورتیں جو دفن نہیں کرسکتیں وہ کسی کپڑے یا کاغذ میں لپیٹ کر کہیں ڈال دیں، لیکن بالوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں."

(باب خصال الفطرۃ،الفصل الثالث فی تقلیم الاظفار،ج:19،ص:452،فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101440
تاریخ30-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں