بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی ضرورت کے استعمال کے لیے زمین پر زکوۃ کا حکم

سوال

 اگر کسی کے پاس ایگ گھر ہو جو بہت پرانا ہے، اس کو دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے، اور ایک زمین اس کو ملی ہے تاکہ اس زمین کو بیچ کر اپنا پرانا گھر بنالے، تو جب تک گھر نہیں بنالیتا ہے، کیا اس زمین کی زکوۃ دینی ہوگی؟ پرانے گھر میں خود رہ رہی ہے اور ایک زمین ہے، کیا زمین پر زکوۃ ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ جائیداد زمین، پلاٹ وغیرہ اگر تجارت کے لیے خریدے ہوں، توسال مکمل ہونے کے بعد ان کی زکوۃ دینا لازم ہوتاہے، لیکن اگر تجارت کے لیے نہ  لیے ہوں، تو   ان پر زکوۃ نہیں ہوتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ مذکورہ زمین    تجارت کے لیے نہیں خریدی، اس لیے اس پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، ج: 1، ص: 172، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"والأصل أن ‌ما ‌عدا ‌الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة.

(قوله ‌ما ‌عدا ‌الحجرين)... وما عدا ما ذكر كالجواهر والعقارات والمواشي العلوفة والعبيد والثياب والأمتعة ونحو ذلك من العروض."

(‌‌كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 273، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"‌زكاة ‌التجارة ‌تجب ‌في ‌الأرض." 

(‌‌كتاب الزكاة، ‌‌باب السائمة، ج: 2، ص: 275، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101347
تاریخ28-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں