بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے کہنے پر عدالت سے خلع لینا

سوال

 شوہر نے اگر تحریری طور پر عدالت میں لکھ کر دیا ہے کہ عدالت تنسیخ نکاح برائے خلع کردے شوہر کو کوئی اعتراض نہیں تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔ کیا خلع ہو جائے گی؟

جواب

شوہر اگر عدالت کو زبانی یا تحریری طور پر اجازت دیتا ہے کہ وہ خلع دےد ے اور بیوی عدالت سے خلع لے لیتی تو یہ خلع شرعا واقع ہوجائے گی اور عدالت کے خلع دینے سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"لأن الوكيل بهذا العقد ‌سفير معبر عن الموكل....."

(کتاب الطلاق،باب الخلع،ج6،ص179،ط؛دار العرفۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101327
تاریخ28-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں