بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا برہنہ ہو کر سونے کا حکم

سوال

شوہر اس بات پر تنگ کرے کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ ننگی سوئے تو کیا بیوی ایسا کر سکتی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں شوہر کا بیوی کو بالکل برہنہ ہو کر سونے کے لیے تنگ کرنا   مناسب نہیں ہے، یہ ادب و حیاء کے خلاف ہے، لہذا بیوی کو چاہیے کہ نرمی اور حکمت کے ساتھ شوہر کو سمجھائے امید ہے کہ وہ سمجھ جائے گا۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن عتبة بن عبد السلمي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتى أحدكم أهله فليستتر، ولا يتجرد تجرد العيرين»."

(کتاب النکاح ، باب التستر عند الجماع جلد ۱ ص: ۶۱۸ ط: دار احیاء الکتب العربیة)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إياكم ‌والتعري فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط وحين يفضي الرجل إلى أهله فاستحيوهم وأكرموهم» . رواه الترمذي".

(كتاب النكاح، ‌‌باب النظر إلى المخطوبة وبيان العورات، الفصل الثاني  ج: 2 ص: 934 ط: المكتب الإسلامي)

ترجمہ:’’حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم برہنہ ہونے سے اجتناب کرو( اگرچہ تنہائی کیوں نہ ہو)؛ کیوں کہ پاخانہ اور اپنی بیوی سے مجامعت کے اوقات کے علاوہ تمہارے ساتھ ہر وقت وہ( فرشتے) ہوتے ہیں( جو تمہارے اعمال لکھنے پر مامور ہیں)  لہذا تم ان (فرشتوں )سے حیا کرو اور ان کی تعظیم کرو  ۔‘‘

(مظاہر حق ج:3ص:259 ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101268
تاریخ27-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں