بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آگ کے ذریعہ بال کاٹنے کا حکم

سوال

آگ سے بال کٹوانا شرعا کیسا ہے ؟(Fire Hair Cutting)

جواب

واضح رہے کہ بال انسان کے جسم کا    ایک جزء ہے جو کہ قابل احترام ہے ،لہذا بالوں کو آگ کے ذریعہ کاٹنا  شرعاً جائز نہیں ؛اس لیے کہ ایک تو اس میں انسان کااحترام کے بجائے توہین کا پہلو ہے   کہ انسان کے ایک جزء کو جلایا جائے  اور دوسرا یہ کہ  اس میں اس بات کا  خطرہ رہتا ہے کہ آگ کے ذریعہ بال کاٹتے وقت     انسان کا جسم جل جائے ۔

موسوعۃ فقہیۃ کویتیۃ میں ہے :

"واتفق الفقهاء على عدم جواز الانتفاع بشعر الآدمي بيعا واستعمالا؛ لأن الآدمي مكرم لقوله سبحانه وتعالى: {ولقد كرمنا بني آدم} فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا مبتذلا."

(ج:26،ص:102،دارالصفوۃ)

تفسیر مظہری میں ہے :

"أَنْفِقُوا أموالكم فِي سَبِيلِ اللَّهِ فى الجهاد وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ،قيل: الباء زائدة وعبر بالأيدي عن الأنفس وقيل: فيه حذف اى لا تلقوا أنفسكم بايديكم يعنى باختياركم والإلقاء طرح الشيء وعدى بالى لتضمن معنى الانتهاء- والقى بيده لا يستعمل الا في الشر،‌إِلَى ‌التَّهْلُكَةِ اى الهلاك- قيل: كل شىء يصير عاقبته الى الهلاك فهو التهلكة وقيل: التهلكة ما يمكن الاحتراز عنه والهلاك ما لا يمكن الاحتراز عنه".

(ج:1،ص:215،مکتبۃ الرشدیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101203
تاریخ27-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں