بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر کسی شرعی عذر کے اونٹ کا دانت گلے میں ڈالنے کا حکم

سوال

کیا بندہ بغیر کسی وجہ کے گلے میں اونٹ کا دانت ڈال سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مرد کے لیے گلے میں اونٹ کا دانت بطور ِچین وغیرہ ڈالنا اگر غیروں کی مشابہت اور زیب وزینت کے لیے ہو، تو بلا شبہ یہ ناجائز ہے،اور اگر غیروں کی مشابہت نہ ہو تب بھی بغیر عذر کے پہننا،ناجائز ہے،  اسی طرح مرد کے لیے گلے میں کسی بھی دھات کی چین پہننابھی شرعاً  جائز نہیں ہے۔

مرقاةُ المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من تشبه بقوم فهو منهم" رواه أحمد، وأبو داود.

(من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب."

 (كتاب اللباس، الفصل الثاني، ج:8، ص:222، ط:مکتبة حنیفیة)

فتاویٰ شامی   میں ہے:

"(‌ولا ‌يتحلى) الرجل (بذهب وفضة) مطلقا (إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منها) أي الفضة إذا لم يرد به التزين."

(كتاب الحظر والإباحة، ص:654، ط:دار الكتب العلمية۔بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101153
تاریخ26-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں