بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے پہلے شوہر کی اولاد کا ابا کہنے کا حکم

سوال

 اگر کسی شخص نے دوسری شادی کی اور اس بیوی کے ساتھ دو بچے بھی آئے، تو کیا ان بچوں سے ابا کہلوا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

جی ہاں! سوتیلا والد اگر چہ حقیقی والد نہیں، لیکن اُس  کو ابو کہہ کر پکارنا جائز  ہے، مگر شریعت میں بچوں کا نسب اور ان کی شناخت ان کے حقیقی والد سے ہوتی ہے ، بچے کی نسبت ان کے حقیقی والد ہی کی طرف کرنا ضروری ہے، اورتمام سرکاری غیر سرکاری کاغذات میں بچے کی ولدیت میں اصل والد کا نام ہی لکھا جانا شرعا لازم ہے، تا کہ ہمیشہ ان کی اصل شناخت باقی رہے اور نسب اور تقسیم وراثت کے مسائل میں بھی اشتباہ سے بچا جا سکے۔

قرآن مجید میں ہے :

"﴿ اُدْعُوهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۚ ﴾ ."

ترجمہ:"تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ سب اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے۔"(بیان القرآن)

حدیث میں ہے :

"عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»."

(صحیح البخاری ،باب من ادعی الی غیر ابیہ،ج:8،ص:156،ط:دارطوق النجاۃ)

فتاوی شامی میں ہے :

"قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها."

(کتاب النکاح ،ج:3،ص:15،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503101133
تاریخ26-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں