بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی رضامندی کے بغیربیوی کا عدالت سے خلع لینا

سوال

کیا بیوی کا شوہر کی  رضامندی کے بغیر عدالت سے خلع لے کر دوسری جگہ نکاح کرنا شرعا جائزہے؟

جواب

واضح رہے کہ خلع ایک مالی معاملہ کی طرح ہےجس طرح دیگر معاملات کے معتبر  اور درست ہونے کے لیے جانبین کی رضامندی شرعا ضروری ہوتی ہے اسی طرح  خلع کے معتبر اور درست  ہونے کہ لیے بھی عاقدین (میاں بیوی )  کی رضامندی شرعا ضروری ہوتی ہے، کوئی ایک فریق راضی ہودوسرا راضی نہ ہو تو ایسا خلع شرعا معتبر نہیں ہوتا   ۔

لہذا بیوی کا شوہرکی رضامندی کے بغیر عدالت سے یک طرفہ  خلع کی ڈ گری حاصل کر کے دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست نہیں ۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول." 

(کتاب الطلاق، فصل في قبول العوض والخلع ج: 4 ص: 376 ط: دار النشر)

تبیین الحقائق میں ہے :

"ولا بدّ من قبولها؛ لأنه عقد ‌معاوضة أو تعليق بشرط فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول، ولأن المعلّق ينزل بدون الشرط إذ لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه."

(کتاب الطلاق ، باب الخلع ج: 3 ص: 189 ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101120
تاریخ26-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں