بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیبیہ نام رکھنے کا حکم

سوال

حدیبیہ نام رکھنا کیسا ہے؟ میری بیٹی کانام حدیبیہ ہے عمر 6 سال ہے، بےفارم بھی بن چکا ہے، اگر نام صحیح نہ ہو توتبدیل کرنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "حدیبیہ" حدب سے ہے، اس کا معنی ہے: 'کسی چیز کا بلندہونا، ابھرا ہواہونا، بلند زمین، کمر کا ابھار، کبڑا پن' نیز یہ کہ "حدیبیہ" ایک مخصوص جگہ کا نام ہے، کسی انسان کا نام نہیں ہے۔

لہذا مذکورہ نام کے بجائےبہتر یہ ہے کہ  صحابیات رضی اللہ عنہن یا نیک خواتین کے ناموں میں سے کسی کا نام رکھا جائے۔

اگر تبدیل کرنا ممکن ہو تو بہتر یہی ہے کہ کاغذات میں تبدیل کردیا جائے، لیکن اگر تبدیل کرنے میں حرج ہو تو پھر کاغذات میں تبدیل کرانا ضروری نہیں ہے، البتہ پکار نے کے لیےکوئی اور اچھا نام رکھ لیا جائے۔

المعجم الوسیط  میں ہے:

"(الحدب) ما ارتفع وغلظ من الأرض وفي التنزيل العزيز {وهم من كل ‌حدب ينسلون} ونتوء في الظهر."

(‌‌باب الحاء، ج: 1، ص: 159، ط: ودار الفكر)

القاموس الوحید میں ہے:

"حدبت الأرض ۔ حدباً: زمین کے کچھ حصہ کا ابھرا ہوا ہونا۔

الحدب: بلند زمین۔ (2) کوب، کمر کا ابھار کبڑا پن۔"

(باب الحاء، ص: 265، ط: ادارہ اسلامیات)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503101107
تاریخ26-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں