بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی شخص کا کوئی عضو ایک جگہ دفن ہو تو مرنے کے بعد اس شخص کو اسی جگہ دفن کرنا ضروری ہے یا نہیں

سوال

ایک آدمی کا کسی حادثے میں کوئی عضو کٹ جاتا ہے تو اس عضو کو زمین میں دفن کردیا جاتا ہے اب جب وہ آدمی فوت ہو جاتا ہے تو کیا اس کو اسی جگہ دفن کرنا ضروری ہے جہاں اس کا عضو ہے یا کسی بھی جگہ دفن کر سکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب   کسی شخص کا  کوئی عضو  کٹ جائے اور اس کو دفن کردیا جائے ،پھر اس کے بعد اس شخص کا انتقال ہوتو قریبی قبرستان میں  کسی بھی جگہ اس کی تدفین کرسکتے ہیں،جس جگہ پہلے اس کے عضو کو دفنایا تھا اس جگہ کو دوبارہ کھود کر بڑ ا کرنااور اسی جگہ  میں اس میت  کو دفن کرنا ضروری نہیں  ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ويستحب في القتيل والميت دفنه في المكان الذي مات في مقابر أولئك القوم، وإن نقل قبل الدفن إلى قدر ميل أو ميلين فلا بأس به، كذا في الخلاصة. وكذا لو مات في غير بلده يستحب تركه فإن نقل إلى مصر آخر لا بأس به."

(كتاب الإجارة ،الفصل الثاني اختلاف الآجر والمستأجر في وجود العيب بالأجرة،4 / 485، ط: دار الفکر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101037
تاریخ26-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں