بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، ایک بیٹا اور والدین میں میراث کی تقسیم

سوال

 ایک بندہ وفات ہو گیا ہے اور اس نے ترکہ میں 9لاکھ روپے چھوڑے ہیں، اب اس 9لاکھ روپے کو اس کی ماں ،باپ اور بیوی اور ایک بیٹے کے درمیان کس طرح تقسیم کریں گے ؟

جواب

مرحوم کے ورثاء  میں والد، والدہ ،بیوی  اور ایک بیٹا ہے تو اس صورت میں میراث کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ   کہ مرحوم کی جائیداد میں سے اولاً ان کی تجہیز و تکفین اور قرضہ جات  ادا کیے جائیں، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اُس کو ایک تہائی ترکہ  میں سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 24 حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی بیوہ کو 3 حصے، بیٹے کو  13  حصے، والد کو  4 حصے اور والدہ کو  4  حصے  ملیں گے۔

میت/ 24

بیوہ والد  والدہ بیٹا
3 4 4 13

 یعنی اگر کل ترکہ نو لاکھ روپے ہیں تو بیوہ کو 112500 روپے ،بیٹے کو 487500 روپےاور  والد اور والدہ میں سے ہر ایک کو 150،000 ،روپے ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503101028
تاریخ26-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں