بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وٹامن k2 کی جگہ مشتری کو وٹامن k3 بیچنے کا حکم

سوال

وٹامن k2 اور k3 دو الگ الگ  آئٹم بازار میں ملتے ہیں، انٹرنیٹ پر لکھا ہے کہ "وٹامن k3 وٹامن k2 کی ایک فعال شکل ہے"، سوال یہ ہے کہ کیا ہم وٹامن k3 کو وٹامن k2 کی جگہ مشتری کو دے سکتے ہیں؟

جواب

اس کے بارے میں انٹرنیٹ پر مزید دیکھنے سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ دونوں وٹامن بعض خصوصیات میں تو ایک جیسی افادیت رکھتے ہیں، البتہ دیگر بعض چیزوں میں دونوں میں فرق ہے، ایک فائدے میں دونوں مشترک ہیں، البتہ نقصانات(side effects) دونوں کے مختلف ہیں، لہٰذا طبی پہلو سے خریدار کو نقصان سے بچاتے ہوئے k3 کو k2 کی جگہ دینا درست نہیں ہے، ہاں، اگر خریدار کو دونوں کے فوائد اور نقصانات سے آگاہ کر کے اس کی رضامندی سے دیا جائے تو درست ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي... ومنها في العقد وهو موافقة القبول للإيجاب."

(كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج:3، ص:2، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100985
تاریخ25-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں