بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کے بچے کا ختنہ نہ کروانے اور بالغ ہونے کے بعد ختنہ کروانے کا حکم

سوال

کیا بچے کا ختنہ کرانا فرض ہے ؟ اگر کسی باپ نے بچپن میں اپنے بیٹے کاختنہ نہیں کرایا تو کیا باپ گناہ گار ہوگا؟ اور اسی طرح اگر بیٹا بالغ ہو گیا ہے تو کیا اب اسے اپنے ختنے کرانا ضروری ہے؟

جواب

ختنہ کرانا سنت ہے،اور شعائر اسلام میں  سے ہے،فرض نہیں،والدبیٹے كا  ختنہ  نہ کروانے کی وجہ سے گناہ  گار ہوگا،بالغ ہونے کے بعد بھی ختنہ کروانا ضروری ہے،البتہ اگر  ناقابلِ برداشت تکلیف  کا اندیشہ ہو ، اور ماہر، دین دار  ڈاکٹر اس کی تصدیق   کرے تو نہ کروایا  جائے، اب تو بغیر تکلیف رنگ لگا دیتے ہیں ضرور ختنہ کرائیں۔

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"إذا جاء عذر فلا بأس بالنظر إلی عورة لأجل الضرورة، فمن ذلك أن الخاتن ینظر ذلک الموضع والخافضة کذلک تنظر، لأن الختان سنة، وهو من جملة الفطرة في حق الرجال لایکمن ترکه".

( کتاب الإستحسان، النظر إلی الأجنبیات:10؍163، الغفاریة) 

 فتاوی ہندیہ میں ہے: 

واختلفوا في الختان قيل إنه سنة وهو الصحيح كذا في الغرائب...

"الشيخ الضعيف إذا أسلم ولا يطيق الختان إن قال أهل البصر لا يطيق يترك لأن ترك الواجب بالعذر جائز فترك السنة أولى كذا في الخلاصة.

قيل في ختان الكبير إذا أمكن أن يختن نفسه فعل وإلا لم يفعل إلا أن يمكنه أن يتزوج أو يشتري ختانة فتختنه وذكر الكرخي في الجامع الصغير ويختنه الحمامي كذا في الفتاوى العتابية...

‌وللأب ‌أن ‌يختن ولده الصغير ويحجمه ويداويه وكذا وصي الأب."

(کتاب الکراهية،باب الختان،ج:5،ص:357،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100950
تاریخ25-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں