بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر دیکھ کر ماشاءاللہ کہنے کا شرعی حکم

سوال

تصویر کو دیکھ کر ماشاءاللہ کہنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح جاندار کی تصویر بنانا جائز نہیں ہے اسی طرح کسی جاندار کی تصویر اپنے پاس رکھنا یا دیکھنا بھی جائز نہیں، پھر تصویر  اگر  غیر محرم  کی ہو یا غیر محرم کی تو نہیں، لیکن کسی ایسے انسان کی ہو جس کا ستر واضح ہو تو  اس میں بد نظری   کا گناہ بھی ہوگا۔ اور اگر تصویر  عورت کی نہ ہو، اور اس میں کسی کا ستر  نظر نہ آرہا ہو، لیکن دیکھ کر فرحت یا لذت محسوس ہو تو بھی ناجائز ہے کہ حرام چیز کو دیکھ کر خوش ہونا بھی ناجائز ہے، اسی لیے تصاویر کو تلف کرنے کا حکم ہے۔  پھر حرام سے لذت  حاصل کرتے  ہوئے  "ماشاء اللہ"  کہنا   گناہ اور  خطرناک بات ہے کہ حرام کام کا ارتکاب کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ کا نام استعمال کیا جائے؛ لہٰذا اس قسم کے فعل سے اجتناب لازمی ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حرامًا لا مكروهًا إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصًا."

(كتاب الصلوة، مكروهات الصلوة، ج:1، ص:647، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100916
تاریخ25-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں