بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’جس گاؤں میں اذانیں شاندار ہوتی ہیں وہاں اتحاد و اتفاق ہوتا ہے ۔۔۔الخ‘‘ کی حقیقت

سوال

’’جس گاؤں میں اذانیں شاندار ہوتی ہیں وہاں اتحاد و اتفاق ہوتا ہے اور جس گاؤں میں اذانیں غلط ہوتی ہیں وہ گاؤں اختلاف و انتشار کا شکار ہوجاتا ہے‘‘۔

اس بات کی کیا حقیقت ہے؟ کیا یہ بات کسی حدیث سے ثابت ہے ؟

جواب

سوال میں آپ نے اذان   کے شان دا ر ہونے کی صورت میں اتحاد واتفاق ہونے ،او راذان کے غلط ہونے کی صورت میں  اختلاف وانتشار  کا شکار  ہونے کا ذکر کیا ہے،  اس بارے میں ہمیں کوئی حدیث وغیرہ نہیں ملی ، اس لیے اسے حدیث کے طور پر بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

البتہ اذان ،دینِ اسلام کا شعار ہے،  اس کی اہمیت وعظمت   مسلم ہے،نیز اذان کے احکام ومسائل(یعنی  اذان دینے کا طریقہ ، آداب  اور  فضائل وغیرہ) ،  نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات میں موجود ہیں، ان  احکام  ومسائل کو سیکھ  کر  ان کے مطابق اذان دینے کا اہتمام کرناچاہیے، اس سے علاقے میں رحمت اور برکت ہو گی۔

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100905
تاریخ25-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں