بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسے شخص سے شادی کرنے کا حکم جو کماتا نہ ہو

سوال

اگر لڑکا کچھ کماتا نہ ہو تو  اس سے نکاح کر لینا چاہیے کہ نہیں یا  جب وہ کمانا شروع کرے تب اس سے نکاح کرنا چاہیے ؟

جواب

اگر لڑکے کی طرف سے کوئی اس کی بیوی کے  نفقے کا بندوبست کرے،  جیساکہ ہمارے معاشرے میں باپ اپنی بہو کے بھی اخراجات برداشت کرتا ہے تو شوہر نفقے پر قاد رسمجھاجائے گا اور اس سے نکاح کیا جاسکتا ہے ، لیکن  اگر لڑکا خود بھی  نہ کماتا ہو اور اس کے والد  یا کوئی اور بھی اس کی  طرف سے اخراجات کی ذمہ داری  نہ  لے تو  اس صورت میں وہ شخص بیوی  کے حقوق کی ادائیگی  پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے نکاح سے احتراز کرے،  جب صاحبِ  استطاعت ہوجائے،  تب نکاح کرے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب و لم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا أو يؤاجرهم و ينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، و أما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل أو خدمة، كذا في الخلاصة".

(کتاب الطلاق ، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفقة الأولاد ج: 1 ص: 562 ط: دار الفکر )

وفیہ ایضا:

"تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة".

(کتاب الطلاق ، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الأول في نفقة الزوجة ج: 1 ص: 544 ط: دار الفکر )

وفیہ ایضا:

"و إن كفل للمرأة رجل بنفقة كل شهر لم يكن كفيلا إلا بنفقة شهر واحد، ولو قال الكفيل: كفلت لك عن زوجك بنفقة سنة كان كفيلا بنفقة السنة، وكذا لو قال: كفلت لك بالنفقة أبدا أو ما عشت كان كفيلا بالنفقة ما دامت في نكاحه".

(کتاب الطلاق ، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الأول في نفقة الزوجة ج: 1 ص: 553 ط: دار الفکر )

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100862
تاریخ24-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں