بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فدیہ کی رقم مستحق زکوة بیٹے کو دینا

سوال

كیا مرحوم والد کی نماز اور روزہ کا فدیہ مستحق زکوة بیٹے کو دیا جا سکتا ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے، زکوٰۃ کی طرح  نماز اور روزے کا فدیہ بھی ماں باپ  کے لیے اپنی اولاد یا ان کی اولاد کو دینا جائز نہیں ہے؛  لہذا صورتِ  مسئولہ میں مستحق بیٹے  کو فدیہ دینے سے فدیہ ادا نہیں  ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومصرف ھذہ الصدقة ما ھو مصرف الزکاۃ."

(الباب الثامن فی صدقة الفطر، ج: 1 ،ص: 194، ط: مکتبه رشیدیه)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100672
تاریخ23-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں