امتحان میں کامیابی کے بعد بھی بغیر رشوت دئیے ملازمت نہ ملتی ہو، تو رشوت دینے کا حکم
سوال
میں ایک کالج میں تقریبا 13 سال سے تعلیم کے شعبہ میں منسلک ہوں، میں ابھی 2 اسکیل کا ملازم ہوں، 5 دن پہلے پروموشن کا ٹیسٹ تھا، تقریبا 600 افراد نے اس ٹیسٹ میں حصہ لیا، اور 185 افراد کو امتحان کے بعد منتخب کیا جاتا ہے، میں نے بھی یہ ٹیسٹ دیا ہے، میں نے اپنے جاننے والے سے معلومات کروائی تو پتہ چلا کہ میرا نمبر 47 پر آرہا تھا، یعنی 185 کے حساب سے میں ان کی لسٹ میں آچکا ہوں، البتہ ان 185 کو بھی پروموٹ کرنے کے لیے ان سے پیسے لیے جاتے ہیں، تو کیا میں پیسے دے کر اپنی پروموشن کروا سکتا ہوں؟ پروموش کے بعد میرا اسکیل 2 سے بڑھ کر 11 ہو جائے گا۔
پوچھنا یہ ہے کہ اگر میں پیسے دے کر یہ پروموشن کروا لوں، اگرچہ ان کے امتحان میں میں پاس ہو چکا ہوں اور ان کے منتخب کنندہ کی فہرست میں آچکا ہوں، تو میرے لیے یہ شرعاً جائز ہوگا؟ نیز اس کے بعد جو کچھ میں کماؤں گا، تو کیا وہ میرے لیے حلال ہوگا؟
نوٹ: پیسوں کے بغیر کسی کو بھی پروموشن نہیں ملے گی، اگرچہ وہ ٹیسٹ پاس کر چکا ہوں، یعنی پروموشن کے لیے پیسے دینا مجبوری ہے۔
جواب
واضح رہے کہ رشوت لینے اور دینے والے پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، چناں چہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں، اور حتی الامکان رشوت دینے سے بھی بچنا واجب ہے، البتہ اگر کوئی جائز کام تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور حق ثابت ہونےکے باوجود صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے نہ ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں رشوت لینے والا گناہ گار ہوگا، اور اس پر وہ رقم واپس کرنا لازم ہوگا۔
لہذا صورتِ مسئولہ اگر سائل مذکورہ جگہ ملازمت کی اہلیت رکھتا ہو اور تمام تقاضے مکمل کرچکا ہو اور واقعی یہ بات مصدقہ ہو کہ امتحان میں کامیاب بھی ہو اور پروموشن کا اہل ہوچکاہو، لیکن اس کے باوجود رشوت کےبغیر پروموشن نہ دی جارہی ہو تو اس صورت میں سائل کے لیے رشوت دے کر اپنا ثابت شدہ حق حاصل کرنا شرعاً جائز ہے، باقی اگر رشوت دہی سے بچے تو یہ تقوی ہے، لیکن اگر کامیابی کی اطلاع مصدقہ نہیں، تو پھر رشوت دے کر ترقی حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلا يجوز لهم الأخذ عليه."
(كتاب الإمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهداياهم، الفصل الثاني، ج: 6، ص: 2437، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ."
(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 424،423، ط: سعید)
وفيه أيضاً:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج: 6، ص: 69، ط: سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

