بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ بدل کا حکم

سوال

کیا حج بدل کی طرح کوئی عمرہ بدل بھی معاوضہ دے کر کروا سکتا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ حجِ بدل تو شرعاً مشروع ہے، البتہ عمرہ بدل یا بدل عمرہ کی اصطلاح کتبِ فقہ میں نہیں ملتی ،لہذا معاوضہ د ے کر کسی کی طرف سے عمرہ کروانا شرعا مشروع نہیں۔البتہ   دیگر نیک اعمال کی  طرح ایصال ثواب کے لئے  عمرہ کرکے اپنے زندہ اقارب یا مرحومین میں سے بھی جس کو چاہیں اس کا ثواب بخش سکتے ہیں۔ایصالِ  ثواب کے لیے عمرہ کے دو طریقے ہیں:

1 ۔عمرہ اپنی طرف سے ادا کرے اور اس کا ثواب دوسرے کو ہدیہ کردے، اس صورت میں احرام وتلبیہ میں نیت اپنی ہی کرے گا۔

2 ۔ دوسروں کی طرف سے عمرہ ادا کرے،  احرام باندھتے وقت ان کی طرف سے احرام باندھنے کی نیت کرے، اور تلبیہ بھی ان کی طرف سے پڑھے۔

البحرالرائق میں ہے :

"والأصل فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا للكتاب والسنة."

(البحرالرائق، باب لحج عن الغیر،3/63،ط:دارالمعرفہ بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100517
تاریخ20-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں