بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ نے دوسری جگہ شادی کرلی تو بھی دیت میں اس کا حصہ ہوگا

سوال

ایک عورت کا شوہر قتل ہوا، عدت پوری کرنے کے بعد اس نے بشرع محمدی دوسری شادی کرلی، کچھ عرصہ بعد قتل کے مقدمے میں صلح ہوگئی، کیا یہ عورت دیت میں حصے کی حقدار ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔

جواب

 صورت ِ مسئولہ میں دیت کی رقم میں بیوہ کا شرعی حق(آٹھواں حصہ  اگر مرحوم شوہر کی اولاد ہو ،وگرنہ چوتھائی حصہ ) ہے ،اگر چہ  بیوہ نے دوسری جگہ شادی کرلی ہے ۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ثمّ ‌دية ‌المقتول تكون ميراثًا عنه لجميع ورثته كسائر أمواله عندنا."

(كتاب الفرائض، باب ميراث القاتل،ج: 30، ص:49، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100504
تاریخ19-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں