بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قیمت کا فرق ادا کرکے گھریلو پرانا سامان نئے سامان کے ساتھ تبدیل کرنا

سوال

قیمت کا فرق ادا کرکے گھریلو  پرانا سامان نئے سامان کے  ساتھ   تبدیل کرنا  شرعًا جائز ہے  یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ  مسئو میں سائل کا اپنا  پرانا  سامان   نئے سامان کے ساتھ تبدیل  کرنااور جو دونوں کی قیمتوں میں فرق ہے اس کو نقد ادا کرنا درست ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"كما جاز بيع (كرباس بقطن وغزل مطلقا) كيفما كان لاختلافهما جنسا (كبيع قطن بغزل) القطن .....(قوله كرباس) بكسر الكاف ثوب من القطن الأبيض قاموس (قوله كيفما كان) متساويا أو متفاضلا اهـ ح (قوله لاختلافهما جنسا) لأنه وإن اتحد الأصل فقد اختلفت الصفة كالحنطة والخبز، وذلك اختلاف جنس كما سيأتي."

‌‌[كتاب البيوع،مطلب في استقراض الدراهم عددا،١٨٠/٥،ط : دار الفكر]

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100461
تاریخ19-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں