بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے؟

سوال

مذاق میں بچوں کے سامنے یا ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے ؟

جواب

مذاق میں جھوٹ بولنا یا کسی کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن بهزبن حكيم عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ويل لمن يحدث فيكذب ‌ليضحك ‌به ‌القوم ويل له ويل له» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والدارمي."

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان، الفصل الثاني، 3/ 1360، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: ’’جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بات کرے اور انسانوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے اس کے لیے تباہی ہے، تباہی ہے، تباہی ہے۔‘‘ (مظاہرحق)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100404
تاریخ19-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں