بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غصب شدہ چیز کی قیمت کا حکم

سوال

ہم 3 بھائی ہیں،  ایک بھائی نے 9 سال پہلے ذاتی نقصان کے تحت مشترکہ گھر جو کہ کراچی شہر میں واقع تھا نقصان کے ازالے کے لیے26 لاکھ میں فروخت کردیا تھا،  اب چوں کہ بھائیوں کے درمیان میں جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ موجودہ وقت میں ہوا ہے،  اب اس گھر کی قیمت موجودہ وقت کی طے ہوگی جو بڑھ چُکی ہے ( حالاں کہ گھر تو 9 سال پہلے فروخت ہواہے) یا 9سال پہلے والی قیمت پر ہی فیصلہ ہوگا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے بھائی نے مشترکہ گھر فروخت کرکے اس کی رقم ذاتی استعمال میں خرچ کر دی ہے، اس سے کوئی چیز خریدی نہیں تو جتنے میں وہ گھر فروخت ہوا تھا وہی رقم اب میراث میں تقسیم ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع."

(كتاب الغصب، الباب الأول في تفسير الغصب وشرطه وحكمه، ج:5، ص:139، ط:رشیدیه)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100397
تاریخ18-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں