بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے طلبہ کا پکنک پر جانا ۔

سوال

کیا مدرسہ کے طلبہ پکنک پر جا سکتے ہیں؟ اگر جا سکتے ہیں تو خرچہ مدرسے والوں کا ذمہ ہو گا یا بچوں سے لیا جائے گا؟

جواب

سیروتفريح كے ليے شرعی حدود  کی پاسداری کرتے ہوئے  پكنك پر جانا مباح ہے،البتہ اس کا خرچ مدرسے کے فنڈ سے دینا جائز نہیں؛کیونکہ لوگ مدرسہ میں چندہ  دینی تعلیم کے لیے دیتے ہیں،نہ کہ تفریحی کاموں  کے لیے،،بچوں سے خرچہ لینے کی صورت میں انہیں  یا ان کے والدین کو مجبور نہ کیا جائے،جو خوشی سے جاتا ہے اس کو لے جائے اور جو جانا نہیں چاہتا اس کو نہ لے جائے۔

تفسیرِکبیرمیں ہے:

"هو الذي جعل لكم الأرض ذلولا فامشوا في مناكبها  . . . .المسألة الثالثة: قوله: فامشوا في مناكبها أمر إباحة، وكذا القول في قوله: وكلوا من رزقه."

(سورة الملك، رقم الآية:15، ٥٩١/٣٠، ط:دار إحياء التراث العربي)

تفسیرالقرطبی میں ہے:

"(فامشوا في مناكبها) هو أمر إباحة، وفيه إظهار الامتنان. وقيل: هو خبر بلفظ الأمر، أي لكي تمشوا في أطرافها ونواحيها وآكامها وجبالها."

(سورة الملك، رقم الآية:15، ٢١٥/١٨،ط:دار الكتب المصرية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100356
تاریخ18-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں