بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارحم مالک نام رکھ سکتے ہیں؟

سوال

سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا بچے کا نام" ارحم مالک" رکھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے كہ "ارحم" کا معنی ہے: زیادہ رحم دل۔

اور مالك كا معنی  ہے:صاحب ملکیت، صاحب اقتدار، صاحب اختیار ، حاکم  و بادشاہ ۔(القاموس الوحيد:ص:1581، ط:ادارہ اسلامیات)

لہذا" ارحم مالَك" نام  كا مطلب ہو گا" زيادہ رحم دل حاکم یا زيادہ رحم دل بادشاه"، لہذا  بچے کا نام ارحم مالک  رکھنا  درست هے۔فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503100341
تاریخ18-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں