بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سدید نام رکھنا

سوال

میں اپنے بیٹے کا نام سدید رکھنا چاہتا ہوں، کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے؟

جواب

’’سَدِید‘‘ کے معنی درست ، مضبوط اور پختہ کے ہیں، مذکورہ نام رکھنا درست ہے ۔ 

تفسیر روح المعانی میں ہے :

’’والسديد - على ما قال الطبرسي - المصيب العدل الموافق للشرع. وقيل : ما لا خلل فيه ، ويقال سدّ قوله يسدّ بالكسر إذا صار سديدا ، وأنه ليسد في القول فهو مسدّ إذا كان يصيب السداد أي القصد ، وأمر سديد وأسد أي قاصد.‘‘

(ج:2،ص:424۔ط:دارالکتب العلمیہ بیروت)

المحکم والمحیط الاعظم میں ہے :

’’والسديد والسداد الصواب من القول ورجل سديد وأسد من السداد وقصد الطريق.‘‘

(ج:8،ص:403،ط:دارالکتب العلمیہ بیروت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144503100254
تاریخ17-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں