بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طواف سیکھنے سِکھانے کے لیے بیت اللہ شریف کا ماڈل (شبیہ/نمونہ) بنانا جائز نہیں ہے

سوال

آج کل حج و عمرہ کا طریقہ سیکھنے کے لیے مختلف کلاسیں اور ورکشاپ ہوتی ہیں، لیکن ایک نئی چیز دیکھنے کو مل رہی ہے کہ ان کلاسوں  میں طواف سکھانے کے لیے بیت اللہ شریف کا ماڈل بنایا جاتا ہے اور پھر طواف کرنا سکھاتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بیت اللہ شریف کو اللہ رب العزت نے روئے زمین پر اپنا قبلہ قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے اسے خاص شرف حاصل ہے، جس کے سبب بیت اللہ شریف کا ماڈل/نمونہ بناکر اس کو کسی اور مقصد کے لیےاستعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، اگرچہ بیت اللہ شریف کے ماڈل کو کعبۃ اللہ/قبلہ کا درجہ حاصل نہیں ہوتا، تاہم   بیت اللہ شریف کا ماڈل بنانے میں یہ اندیشہ ہے  کہ عوام ان کی حدود کا خیال نہیں رکھیں گے ، مزید یہ کہ بیت اللہ شریف کے ماڈل کے طواف کو فی نفسہ عبادت سمجھا   جانے لگے گا، جیسا کہ مشاہدہ بھی ہورہا ہے، لہٰذا ایسے ماڈل بنانے کی کوئی   ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ طواف کا طریقہ ماڈل کے بغیر بھی سکھایا جا سکتا ہے، جیسا  کہ  حج کیمپوں میں طواف  کا طریقہ ماڈل کے بغیر ہی  عوام کو اچھی طرح سکھایا جاتا  ہے؛  ان مذکورہ مفاسد کی بنا پر طواف سکھانے کے لیے بیت اللہ شریف کا ماڈل بنانا درست نہیں ہے۔

لہٰذا بعینہ ماڈل بنانے سے احتراز کیا جائے، البتہ یہ کیا جاسکتا ہےکہ کوئی مربّع چیز بنائی جائے اس پر بیت اللہ کی طرح کالا پردہ نہ ڈالا جائے، اُس سے طواف کہاں سے شروع کرنا اور کہاں ختم کرنا ہے بتایا جائے تو اس کی گنجائش ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100202
تاریخ17-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں