بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس امام کی بالغ بیٹیاں غیر شادی شدہ ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

سوال

ایک امام صاحب کی دو بیٹیاں جن کی عمریں بالترتیب 14 اور  15 سال ہیں، بالغ ہیں،  ابھی تک امام صاحب نے اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کی،  اب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس امام کے پیچھے نماز جائز نہیں،  مہربانی فرماکر  وضاحت فرمائیں کہ کیا ایسے آدمی کی اقتدا  میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں جس کے گھر بالغ لڑکی بہن یا بیٹی موجود ہو؟

جواب

جس امام  کی بالغ بیٹیاں غیر شادی  شدہ ہوں،اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا کراہت درست ہے ،لوگوں کا کہنا جہالت و غلط اور خلاف شرع بات ہے۔

فتاوی شامی میں  ہے:

"وأما شروط الإمامة فقد عدها في نور الإيضاح على حدة، فقال: وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة."

(كتاب الصلوة، ‌‌باب الإمامة، ج:1، ص:550،  ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100184
تاریخ17-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں