بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی رقم نہ لوٹانا

سوال

کیا سود کی رقم نہ لوٹانے پر گناہ ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں سودی رقم نہ لوٹانے پر گناہ ہوگا، لہذا جلد سے جلد یہ رقم اس کے مالک کو لوٹا دے، اگر مالک موجود نہ ہو تو اس کے ورثاء کو دے دے، اور اگر مالک کو لوٹانا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں کسی مستحق غریب کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال بعض مشايخنا: كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن ‌سبيل ‌الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة‌‌، باب الاستبراء وغيره‌‌، فصل في البيع: 6/ 385، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100180
تاریخ17-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں