بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حقیقی بھائی کی موجودگی میں علاتی بہن بھائی کا حکم

سوال

میرے والد کی دو شادیاں تھیں، پہلی والدہ سے ہم دو بھائی، ایک بہن ہیں، دوسری والدہ سے دو بھائی ،تین بہنیں ہیں ،میری سگی بہن کے انتقال پر دوسری والدہ سے بہن بھائی ان کی جائیداد سے حصہ مانگ رہے ہیں،جب کہ بہن غیر شادی شدہ تھی، برائے مہربانی وراثت کے حصے بتادیں؟

جواب

واضح رہے کہ سگےبھائی کی موجودگی میں  باپ شریک بھائی بہن کو میراث میں سے حصہ نہیں ملتا؛  لہذا   صورت ِ مسئولہ میں آپ کے  باپ شریک بھائی   بہن آپ کی سگی بہن کے ترکہ  میں حصہ دار نہیں ۔

بہن کی میراث کا تفصیلی طریقۂ کار معلوم کرنے کے لیے ورثا کی تعداد ذکر کریں، نیز یہ ذکر کریں کہ آپ کی سگی والدہ زندہ ہیں یا نہیں؟

السراجی فی المیراث میں ہے :

"و يسقط بنو العلات أيضا بالأخ لأب وأم ."

(احوال الاخوات لاب،ص:28،بشرٰی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100167
تاریخ17-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں