بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سیاہ لباس پہننے کا حکم

سوال

ربیع الاول میں کالا لباس پہننا کیسا ہے؟جائز ہے یا نہیں؟

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کالے رنگ کی چادر اور عمامے کا استعمال ثابت ہے، لیکن مکمل کالا لباس پہننا ثابت نہیں، جب کہ اس پہلو سےممانعت کی کوئی حدیث بھی نہیں ملی ، اس لیے فی نفسہ کالا لباس پہننا تو جائز ہے، لیکن اس زمانے میں خاص طور پر محرم کے مہینے میں کالے رنگ کا لباس پہننا روافض کا شعار بن چکا ہے،  اس لیے بہتر ہے کہ مکمل کالے لباس سے جہاں تک ہوسکے احتیاط رکھیں، (خصوصاً جن دنوں میں وہ کالے لباس کا اہتمام کرتے ہیں ان دنوں میں تو بالکلیہ اجتناب کریں)؛  تاکہ ان کی مشابہت سے بچ جائیں، کیوں کہ فساق و فجار کی مشابہت اختیار کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"من تشبه بقوم فهو منهم."

(سنن أبی داؤد ،باب فی لبس الشھرۃ،رقم الحدیث :4031،ج:6،ص:144،ط:دارالرسالة العالمیة)

ترجمہ:’’حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی  تو وہ شخص اسی قوم میں شمار ہوگا۔‘‘

کفایت المفتی میں ہے:

’’سیاہ لباس  بطور ماتمی نشان کے استعمال کیا جاتا ہے ،خواہ کوئی کپڑا سیاہ پہنا جائے مثلاً سیاہ شیروانی  یا سیاہ عمامہ وغیرہ یا ایک سیاہ کپڑا عمامہ پر یا بازو  پر یا کسی دوسرے موقع پر لگا لیا جائے تو یہ صورت بہرحال ناجائز ہے اور شعار روافض میں سے ہے اور ماتمی علامت اور نشان مقصود نہ ہو تو سیاہ رنگ مثل دوسرے رنگوں کے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں،فقط محمد کفایت اللہ ۔‘‘

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:9،ص:159،ط:دارالاشاعت کراچی)

خلاصہ یہ ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں خاص سمجھ کرکالا لباس پہننا درست نہیں ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100127
تاریخ17-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں