بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قضاء عمری کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ نماز چھوڑی جاسکتی ہے؟

سوال

میری عمر تقریباً 36 سال ہے اورمیں نماز کا پابند نہیں تھا، اب اللہ پاک نے توفیق دی ہے تو نماز کی پابندی کرتا ہوں اور میرے ذمہ جو نمازیں ہیں ادا کرنا چاہتا ہوں جوکہ تقریباً بیس  سال کی ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا سنتِ مؤکدہ چھوڑ کر اپنی بقایا نماز ادا کرسکتا ہوں یا سنت مؤکدہ ادا کرنا ضروری ہے؟ اگر سنتِ مؤکدہ نہیں چھوڑسکتا تو کیا سنتِ غیرمؤکدہ چھوڑکر قضاء عمری کرسکتا ہوں؟

جواب

قضاء عمری کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ نماز چھوڑنا جائز نہیں ہے اور سنتِ غیرمؤکدہ کو چھوڑنا جائز ہے۔

حاشيۃ الطحطاوی میں ہے :

"والاشتغال ‌بقضاء ‌الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنة المعروفة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي وردت في الأخبار فتلك بنية النفل وغيرها بنية القضاء كذا في المضمرات عن الظهيرية وفتاوى الحجة ومراده بالسنة المعروفة المؤكدة وقوله وغيرها بنية القضاء مراده به أن ينوي القضاء إذا أراد فعل غير ما ذكر فإنه الأولى بل المتعين."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص:447، ط: دارالكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100113
تاریخ16-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں