بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غبنِ فاحش کسے کہتے ہیں؟

سوال

غبنِ فاحش کسے کہتے ہے؟

جواب

 "غبنِ فاحش" سے مراد یہ ہے کہ  کسی چیز کی بازار میں جو زیادہ سے زیادہ  قیمت لگائی جاتی ہے،اس سے بھی زیادہ قیمت وصول کی جاۓ،مثلاً ایک چیز مارکیٹ میں 100 سے 120 روپے کے درمیان فروخت ہوتی ہے ،120 سے  زیادہ کی فروخت نہیں ہوتی ،لیکن کوئی شخص وہی چیز  200 یا300 روپے میں فروخت کرتا ہےتو یہ غبنِ فاحش ہے،اس طرح خرید و فروخت کرنے سے خرید و فروخت جائز ہوگی اور نفع بھی فروخت کنندہ کے لیے حلال ہوگا،لیکن یہ عمل شرعاًمکروہ ہے۔

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"فالبيع ما شرع إلا لطلب الربح والفضل فالفضل الذي ‌يقابله ‌العوض حلال ككسبه بالبيع."

(كتاب البيوع، أنواع الربا، 119/12،ط: دارالمعرفة)

الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے:

"‌الحنفية - ‌قالوا: ‌الغبن ‌الفاحش هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين، كما إذا اشترى سلعة بعشرة فقومها بعض أهل الخبرة بخمسة، وبعضهم بستة، وبعضهم بسبعة، ولم يقل أحد إنها بعشرة فالثمن الذي اشتريت به لم يدخل تحت تقويم أحد."

(‌‌كتاب أحكام‌‌ البيع وما يتعلق به، ‌‌مبحث البيع بالغبن الفاحش،256/2، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100054
تاریخ16-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں