بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

علامہ ابن القیم رح کی طرف منسوب قول ’’ اگر صدقہ کرنے والا یہ جان لے، کہ اُس کا صدقہ فقیر سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پہنچتا ہے، تو یقیناً دینے والے کو لینے والے سے زیادہ لذت ملے‘‘ کی تحقیق

سوال

کیا یہ امام ابن القیم رحمہ اللہ کا قول ہے؟  رہنمائی فرمائیں :

اگر صدقہ کرنے والا یہ جان لے کہ اُس کا صدقہ فقیر سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پہنچتا ہے؛ تو یقیناً دینے والے کو لینے والے سے زیادہ لذت ملے۔

جواب

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کی طرف منسوب یہ قول  ہمیں کہیں اس طرح نہیں ملا، البتہ ان کی ایک کتاب (مدارج السالكين ) میں صرف اتنی بات ملی کہ  صدقہ دینے والے کو ملنی والی خوشی اور لذت صدقہ لینے والے  سے بڑھ کر ہوتی ہے۔

"إذ هذا شأن الجواد من الخلق، فإنه يحصل له من الفرح والسرور والإبتهاج واللذة بعطائه وجُوده فوق ما يحصل لمن يعطيه، ولكن الآخذ غائب بلذة أخذه عن لذة المعطي وابتهاجه وسروره ".

(مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين: فصل ومنها السر الأعظم الذي لا تقتحمه العبارة ولا تجسر عليه  (1/ 212)، ط. دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة الثانية : 1393 هـ = 1973م)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100013
تاریخ16-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں