بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جو شخص کھڑے ہو کر پانی پیتا ہے اس کے ساتھ بدترین شکل کا شیطان کھڑے ہو کر پانی پیتا ہے کی روايت کی تحقیق

سوال

کیا یہ حدیث مبارک میں آیا ہے کہ جو شخص کھڑے ہو کر پانی پیتا ہے ، اس کے ساتھ بدترین شکل کا شیطان کھڑے ہو کر پانی پیتا ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں؟

جواب

سوال میں مذکور حدیث ، الفاظ کی معمولی کمی بیشی کے ساتھ مسند احمد، سنن الدارمی، شعب الایمان اور مشکل الآثار میں موجود ہے۔

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا محمد بن جعفر، أخبرنا شعبة، عن أبي زياد الطحان، قال: سمعت أبا هريرة، يقول: عن النبي صلى الله عليه وسلم: أنه رأى رجلا يشرب قائما، فقال له: قه. قال: لمه؟ قال: أيسرك أن يشرب معك الهر؟ قال: لا، قال: فإنه قد شرب معك من هو شر منه، الشيطان."

ترجمہ:

"حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہےکہ نبی کریم صلي اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھڑے ہو کر پانی پیتے ہوئے دیکھا، تو اس کو فرمایا: اسے قے کردو، اس شخص نے اس کی وجہ دریافت کی؟ نبی کریم صلي اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ساتھ کوئی بلی پانی پیے؟اس نے کہا نہیں، تو نبی کریم صلي اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارےساتھ  بلی سے بھی زیادہ  بری چیزنے  پانی پیا ہے، اور وہ ہے شیطان۔ "

(مسند أحمد، مسند أبي هريرة رضي الله تعالى عنه، ج: 13، ص: 381، رقم: 8003، مؤسسة الرسالة)

مذكوره حديث كو نقل كرنے کے بعد امام ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

"رواه أحمد، والبزار ورجال أحمد ثقات."

یعني اس کو روایت کرنے والے امام احمد اور امام بزار ہیں ، اور مسند احمد میں مذکور اس روایت کے تمام راوی ثقات اور معتبر ہیں۔ 

(مجمع الزوائد، كتاب الأشربة، باب الشرب قائما، ج: 5، ص: 79، رقم: 8241، ط: دار الكتب العلمية -بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502102207
تاریخ12-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں