بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پوتے پوتی میں تقسیمِ میراث

سوال

 دادا کی جائیداد کی تقسیم شرعی طور پر کیسے ہوگی ؟ مرحوم کا  ایک ہی بیٹا تھا،  اس کا انتقال ہو چکا ہے،  ایک پوتا ہے ایک پوتی ہے اور ایک بہو ہے،  ان  کے درمیان تقسیم کیسے ہوگی ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مرحوم دادا  کی زندگی میں ہی بیٹے کا انتقال ہوچکا تھا  تو مذکورہ ورثہ میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی  قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد  کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے  2 حصے مرحوم کے پوتے کو اور ایک حصہ پوتی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت۔۔۔3

پوتا پوتی
2 1

فیصد کے اعتبار سے 66.66 فیصد پوتے کو اور 33.33 فیصد پوتی کو ملے گا ، اگر بیٹے کا انتقال باپ کی زندگی میں ہو ا ہے تو مرحوم کی بہو کا اپنے سسر کی میراث میں شرعاً حصہ نہیں ہے ۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502102204
تاریخ12-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں