بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاندار کی تصویر والے کمرہ یا دفتر میں نماز پرھنے کا حکم

سوال

دفتر میں  تصاویر چسپاں ہیں، تو کیا اس دفتر میں نماز ادا کرنا جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ دفتر میں اگر  کسی بھی جاندار کی تصویر ایسے مقام پر موجود ہے  جہاں نماز ادا کرنی ہے تو ایسے مقام پر نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، یا تو جاندار کی تصویر کو ہٹادیا جائے، یا متبادل کسی مقام پرنماز کی ادائیگی کا اہتمام کیاجائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو ( بحذائه ) يمنة أو يسرة أو محل سجوده ( تمثال ) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة  (واختلف فيما إذا كان) التمثال ( خلفه والأظهر الكراهة) ( و ) لا يكره ( لو كانت تحت قدميه ) أو محل جلوسه لأنها مهانة ( و في يده ) عبارة الشمني بدنه لأنها مستورة بثيابه ( أو على خاتمه ) بنقش غير مستبين، قال في البحر: ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر وأقره المصنف (أو كانت صغيرةً) لاتتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائمًا وهي على الأرض، ذكره الحلبی".

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:648، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502102110
تاریخ12-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں