بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حافظ ابنِ حبان رحمہ اللہ کے قول:’’عقل مند کو چاہیے کہ غمگین نہ رہے؛ کیوں کہ غم مصیبت کو نہیں ٹالتا اور غم کا تسلسل عقل میں کمی کا باعث بنتا ہے‘‘ کی تخریج

سوال

کیا درج ذیل قول، حافظ ابنِ حبان رحمہ اللہ کا ہے؟ رہنمائی فرمائیں:

’’عقل مند کو چاہیے کہ غمگین نہ رہے ؛کیوں کہ غم مصیبت کو نہیں ٹالتا اور غم کا تسلسل عقل میں کمی کا باعث بنتا ہے‘‘۔

جواب

سوال میں آپ نے حافظ ابنِ حبان رحمہ اللہ کے جس قول کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ قول ان کی کتاب"روضة العقلاء ونزهة الفضلاء"میں درج ذیل الفاظ میں مذکور ہے:

"ولا يجبُ لِلعاقل أن يغتمَّ؛ لأنّ الغمَّ لا ينفعُ، وكثرتُه تَزري بِالعقل، ولا أن يحزَن؛ لأنّ الحُزن لا يردُّ المَرْزِئة، ودوامُه يَنقصُ العقلَ".

(روضة العقلاء، ذكر الحث على لزوم العقل ... إلخ، ص:20، ط: دار الكتب العلمية-بيروت)

ترجمہ:

’’اورعقل مند شخص کو غمگین ہونا ضروری نہیں ہے؛ اس لیے کہ غم فائدہ مندچیزنہیں ہے، اور نہ ہی  (عقل مند کو)حزن وملال میں رہنا(ضروری ہے)؛ اس لیے کہ حزن وملال مصبیت کوٹال نہیں سکتا،اور ہمیشہ حزن وملال  میں رہناعقل میں کمی کاباعث ہے‘‘۔

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502102082
تاریخ12-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں