بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر کوئی شخص مدرس کو اپنی طرف سے وظیفہ دے تو مہتمم کو بتانے کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص کسی مدرسے میں مدرس ہو اور وہاں اس کی تنخواہ مقرر ہو، اب اگر کوئی شخص اس مدرس صاحب سے کہے کہ آپ کی تنخواہ کم ہے اس لیے میں آپ کو ماہانہ ایک متعین رقم دوں گا آپ اس کو اپنی تنخواہ میں شامل کر لیں تو کیا اب اس مدرس صاحب کے لیے مدرسے کے مہتمم صاحب کو بتائے بغیر یہ پیسے اپنے استعمال میں لاناجائز ہے یا مہتمم صاحب سے اجازت لینا ضروری ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص ذاتی حیثیت میں مدرس کا ماہانہ وظیفہ مقرر کرتا ہے تو   مدرس کا مہتمم کو بغیر بتائے مذکورہ پیسے استعمال کرنا در ست ہے، مہتمم سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل".

(کتاب الھبۃ،ج:5،ص:690،ط : سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144502101878
تاریخ10-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں