بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

النشفا نام کا مطلب اور یہ نام رکھنے کا حکم

سوال

النشفا نام رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟  اور اس کا معنی کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ 'النشفا' نشف کا مصدر ہے۔ اس کا  معنی ہے 'خشک ہونا،  زمین خشک ہونا، مال چلاجانا، ختم ہونا' لہذا مذکورہ معانی  کے عتبار سے یہ نام  رکھنا درست  نہیں ہے۔  اس نام کے بجائےبہتر یہ ہے کہ  صحابیات رضی اللہ عنہن یا نیک خواتین کے ناموں میں سے کسی کا نام رکھا جائے۔

لسان العرب میں ہے:

"نشف: نشف الماء: يبس، ونشفته الأرض ‌نشفا، والاسم النشف. ونشف الماء ينشفه ‌نشفا ونشفه: أخذه من غدير أو غيره بخرقة أو غيرها. ابن السكيت: النشف مصدر نشف الحوض الماء ينشفه ‌نشفا."

(‌‌فصل النون، ج: 9، ص: 329، ط: دار صادر - بيروت)

القاموس الوحید میں ہے:

"نشف الشئ ۔ نشفا:  خشک ہونا، نشف الثوب والماء الارض۔

نشف ماله: مال چلاجانا، ختم ہونا۔"

(باب النون، ص: 1304، ط: ادارۃ اسلامیات )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101690
تاریخ07-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں