بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی شرمگاہ کو چاٹنا حرام اور مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی ہے؟

سوال

بیوی کی شرمگاہ کو چاٹنا حرام اور مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی ہے؟اگر کوئی شخص یہ عمل کر لیتا ہےتو اس نے حرام کا ارتکاب کیا یا مکروہ تنزیہی کا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرد کا بیوی کی شرمگاہ کو چاٹنےیا بیوی کا مرد کی شرمگاہ کو چاٹنےمیں اگرنجاست(منی یا مذی)منہ اور حلق میں جانے کا احتمال ہوتواس صورت میں یہ مکروہِ تحریمی ہے،بصورتِ دیگر  یہ عمل مکروہِ تنزیہی ہے،بہر صورت اس حرکت سے اجتناب لازم ہے،احتیاط کی جائے۔

"أحكام القرآن للجصاص"میں ہے:

"قوله تعالى: ويحرم ‌عليهم ‌الخبائث،والنجاسات لا محالة من الخبائث."

(ص:٤٤١،ج:٣،سورۃالفرقان،تحت الآية:٤٨،ط:دار الكتب العلمية)

"الفتاوي الهندية"میں ہے:

"في النوازل إذا أدخل ‌الرجل ‌ذكره في ‌فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة."

(ص:٣٧٢،ج:٥،کتاب الكراهية،الباب الثلاثون في المتفرقات،ط:دار الفکر،بیروت)

"المحيط البرهاني في الفقه النعماني"میں ہے:

"إذا أدخل ‌الرجل ‌ذكره ‌فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلا يليق به إدخال الذكر فيه، وقد قيل بخلافه."

(ص:٤٠٨،ج:٥،‌‌كتاب الإستحسان والكراهية،‌‌الفصل الثاني والثلاثون في المتفرقات،ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101685
تاریخ07-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں