بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین دن تاخیر سے آنے کی وجہ سے ایک دن کی تنخواہ کی کٹوتی کا حکم

سوال

 میں ایک پرائیویٹ دینی ادارے میں معلم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں، صبح 8 حاضر ہونا پڑتا ہے،پورے مہینے میں ٹوٹل 60 منٹ کی رعایت دی گئی ہے، 60 منٹ تاخیر مکمل ہونے کے بعد 3 دن لیٹ ہونے کی صورت میں (چاہے وہ ایک ایک منٹ کی تاخیر کیوں نہ ہو) پورے ایک دن کے پیسے کٹتے ہیں، آیا مذکورہ قانون شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

 اگر کوئی ادارہ یا  کمپنی یہ ضابطہ بناتی ہے کہ تین دن لیٹ جانے کی وجہ سے ایک دن کی تنخواہ کٹ جائے گی، تو  یہ ضابطہ شرعاً درست نہیں، تین دن تاخیر سے آنے پر  پورے ایک دن کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں ؛ اس لیے ملازم نے جتنا وقت دیا ہے اتنے وقت کی تنخواہ کا وہ مستحق ہے، اور جتنا وقت دیر سے آیا ہے اتنے ہی وقت کی تنخواہ کاٹنے کی حق دار ہے۔

      البحر الرائق میں ہے:

"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال".

(فصل فی التعزیر، ج:5، ص:41، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"والأجرة إنما تكون ‌في ‌مقابلة ‌العمل."

(مطلب أنفق على معتدة الغير،156/3،ط:ايچ ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101665
تاریخ07-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں