بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فلاں گناہ کیا تو ایک روزہ لازم ہو گا ، کہنے کا حکم

سوال

کسی نے نذر مانی کے فلاں گناہ ہوجائے تو مجھ پر ایک روزہ لازم ہے اگرگناہ سرزد ہو جائے تو روزہ ہے یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ " فلاں گناہ ہوجائے تو مجھ پر ایک روزہ لازم ہے " نذر ماننے کے بعد وہ گناہ ہوجانے  کی صورت میں ایک روزہ رکھنا   لازم ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعاً للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر)؛ لحديث: «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم ... الخ".

(کتاب الایمان، مطلب فی احکام النذر، ج:3، ص:735، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101634
تاریخ07-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں