بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ چاٹنا

سوال

کیا میاں بیوی ایک دوسرے کی شرم گاہ کو ظاہری حصّے کو چوم چاٹ سکتے ہیں؟ بیوی اپنے شوہر کی شرم گاہ کے ظاہری حصّے کو چوم سکتی ہے بنا منہ میں ڈالے؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ چومنا وغیرہ غیرشریفانہ اورغیرمہذب عمل ہے،اور انتہائی درجے کا مکروہ کام ہے،بلکہ میاں بیوی کاایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنا بھی ناپسندیدہ عمل ہے،اور یہ عمل عموماًنسیان کی بیماری کاسبب بنتاہے ، لہذااس سےا حترازکرنا چاہیے،نیز  جس منہ سے پاک کلمہ پڑھاجاتاہے،قرآن مجیدکی تلاوت کی جاتی ہے،درودشریف پڑھاجاتاہے، اس منہ کوایسے خسیس کام میں استعمالکرنا انتہائی ناجائز کام ہے۔

فتاوی ہندیۃ میں ہے:

"في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة."

(کتاب الکراهیة، الباب الثلاثون فی المتفرقات، ج: 5 ص: 372 ط : دارالفکر)

محیط البرہانی میں ہے:

"إذا ‌أدخل ‌الرجل ذكره فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلا يليق به إدخال الذكر فيه، وقد قيل بخلافه."

(کتاب الاستحسان و الکراهیة، الفصل الثانی و الثلاثون فی المتفرقات، ج:5 ص: 408 ط : دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144502101631
تاریخ06-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں