بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوتگی والے گھر سے آئے ہوئے کھانے کا حکم جب وہ کسی اور کی طرف اکرام ہو

سوال

کیا فوتگی والے گھر سے آیا ہوا کھانا کھایا جا سکتا ہے؟ اگر وہ کسی اور نے اکرام کیا ہو ؟

جواب

 جب  کسی  کے گھر میت  ہوجائے تو اس کے رشتہ داروں اور  پڑوسیوں کا اہلِ  میت کے  لیے کھانا تیار کرکے ان کے گھر بھیجنا  عمل مسنون ہے؛ لہذا اگر  فوتگی والے گھر سے آیا ہوا کھانا اسی نوعیت کا ہے، اور اہلِ  میت کی ضرورت سے زائد  ہے اور وہ کسی پڑوسی کے گھر بھیج دیں تو  ان کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، حدثنا جعفر بن خالد، عن أبيه عن عبد الله بن جعفر، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "اصنعوا لأل جعفر طعاما، فإنه قد أتاهم أمر يشغلهم".

(سنن ابی داود، باب صنعة الطعام لأهل الميت، ج: ۵، صفحہ: ۵۲، رقم الحدیث: ۳۱۳۲، ط: دار الرسالة العالمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101345
تاریخ04-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں