بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذکری فرقے والوں کے ساتھ دعوت دینے کی نیت سے کھانا کھانا

سوال

ذکری فرقہ کے لوگوں کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی شخص دعوت کی نیت سے ان کے ساتھ کھائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ دعوت کی نیت سے ان سے تعلق رکھنے کا اجازت کس شخص کوہے اور کس وقت ہے اور کتنی ہے؟ اس کی وضاحت فرمادیں۔

جواب

 ذکری فرقہ اپنے باطل عقائد کی بنا پر  دینِ اسلام سے خارج ہے، اوراس کے ماننے والے مسلمان نہیں ہیں ؛ بلکہ قادیانیوں کی طرح مرتداور زندیق کے حکم میں ہیں،عام کافروں کے ساتھ خوش معاملگی (اچھا برتاؤ کرنا) اور مدارات کا حکم ہے، لیکن کسی ذکری  کے ساتھ یہ تعلق بھی جائز نہیں، ان سے کلی طور پر قطع تعلقی ضروری ہے، ان سے  دلی دوستی رکھنا جائز نہیں۔ البتہ اگر فتنہ میں پڑنے کا  اور ان کے عقائد و نظریات سے متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہو توا ن کو دین کی دعوت دینی چاہیے اور سمجھانا چاہیے؛ تاکہ وہ مسلمان ہو جائیں  اور اگر وہ نہ سمجھیں توان سے تعلقات رکھنا اوران کے گھر جانا اور ان کے گھر کا کھانا کھانا جائز نہیں ہے۔ 

مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ اگردین کوفتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہو تو(قادیانیوں سے )قطع تعلق کرلیناچاہیے،ان سے رشتہ ناتاکرنا، ان کے ساتھ خلط ملط رکھناجس کادین اورعقائدپراثرپڑے ناجائزہے۔۔۔

قادیانیوں کے ہاں جس شخص نے کھانا کھایا ہے اس سے توبہ کرالی جائےکہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا،اورقادیانیوں کے ساتھ کھاناپینارکھناخطرناک ہے‘‘۔

(تیرہواں باب،فصل چہارم: فرقہ قادیانی،  1/325،دارالاشاعت)

ذکری فرقہ کے بارے میں تفصیل کے لیے کتاب: ”  کیا ذکری مسلمان ہیں “ (ناشر: مکتبہ بینات) کا مطالعہ  کیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101119
تاریخ01-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں