بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تجدید ایمان میں اطمینان کا نہ ہونا

سوال

اگر کئی بار تجدید ایمان کرنے کے بعد بھی اطمینان نہ ہوتا ہو کہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں، اور توبہ قبول ہو گئی ہے، تو ایسے میں کیا کریں؟

جواب

تجدید ایمان کا مطلب ہے : دوبارہ نئے سرے سے ایمان لانا ، یعنی کلمہ شہادت پڑھنا اور کفر و شرک کی چیزوں سے توبہ کرنا،اگر ایک ہی مرتبہ کلمہ پڑھ لیا،اور سچے دل سے توبہ کر لیاتو  یہ تجدید ایمان کے لیے کافی ہے،اور اس سے بندہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے،اس میں شک نہیں ہونا چاہیے، اور اپنے وہم کو دور کر دینا چاہیے۔

شرح المجلة میں ہے:

"اليقين لا يزول بالشك،اليقين طمانينة القلب علی حقيقة الشيئ والشك استواء طرفي الشيئ وهو الوقوف بين الشيئين بحيث لا يميل القلب الی احدهما ."

(المقالة الثانية: في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة ٤): اليقين لا يزول بالشك، ج:1 ص:16 ط: رشیدیة)

درر الحکام میں ہے:

"‌اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك نعم لأن اليقين القوي أقوى من الشك فلا يرتفع اليقين القوي بالشك الضعيف، أما اليقين فإنما يزول باليقين الآخر ."

(المقالة الثانية: في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة ٤): اليقين لا يزول بالشك، ج: 1ص:22 ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101087
تاریخ31-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں