بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کام دلواکر کمیشن لینا

سوال

میں نے کسی آدمی کو 5000کا کام دلوا یا ، اس سے 500روپے کمیشن لینا درست ہے یا نہیں، واضح رہے کہ کام کرنے والا کاریگر مالک سے 5500وصول کرکے 500مجھے دے، کیا یہ طریقہ درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کام دلانے سے پہلے کمیشن طے ہوئی تھی تو کام دلانے کے بعد طے شدہ کمیشن ایک مرتبہ لینا جائز ہو گا، البتہ ہر مہینے اس کی تنخواہ میں سے 500 کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں، اسی طرح  اگر کام دلوانے میں سائل  کی کوئی محنت  نہیں تھی،  تو اس کے لیے کسی قسم کا کمیشن لینا جائز نہیں۔

شعب الإيمان میں ہے:

"عن سعيد بن عمير الأنصاري قال: سئل رسول الله صلّى الله عليه وسلّم ‌أيّ ‌الكسب أطيب؟ قال:عمل الرجل بيده، وكلّ بيع مبرور."

(التوكل بالله عز وجل والتسليم لأمره تعالى في كل شيء ، ج:2، ص:84، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]

قال في التتارخانية: وفي ‌الدلال ‌والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."

(كتاب الاجارة، ج؛6، ص:63، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101086
تاریخ31-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں