بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلطی سے سجدہ سہو کر نے کا حکم

سوال

بلاوجہ سجدہ سہو کرنے کی وجہ سے نماز ہوگی یا نہیں یعنی سجدہ سہو واجب نہیں تھا اور مقتدی نے واجب سمجھ کر سجدہ کیا.

جواب

صورت مسئولہ میں  محض شک وشبہ کی وجہ سے سجدہ  سہو نہ  کی اجائے ، البتہ اگر کسی نے کر لیا تو اس  کی نماز  فاسد نہیں ہو گی ۔

خلاصة الفتاوى" میں ہے: 

"إذا ظنّ الإمام أنّه عليه سهواً فسجد للسهو وتابعه المسبوق في ذلك، ثمّ علم أنّ الامام لم يكن عليه سهو، فيه روايتان ... وقال الإمام أبو حفص الكبير: لايفسد، والصدر الشهيد أخذ به في واقعاته، وإن لم يعلم الإمام أنّ ليس عليه سهو لم يفسد صلاة المسبوق عندهم جميعاً".

(کتاب الصلوۃ ،163/1، مکتبہ رشیدیہ )

فقط  والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502101025
تاریخ31-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں