بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عاھد نام کا معنی اور رکھنے کا حکم

سوال

کیا عاہد نام رکھنا درست ہے؟  اس کا کیا مطلب اور معنی ہے؟

جواب

"عاہد" یہ عھد سے ہے، اس کے معنی ایفائے عہد کرنا، فرض ادا کرنا، وعدہ پورا کردینا، کسی ذمہ داری کو قبول کرنا۔

ان معانی کے لحاظ سے "عاہد"   نام رکھنا درست ہے۔

فیروز اللغات میں ہے:

عہد: ـ(ع- ا - مذکر) ذمّہ، ضمانت، فرض ادا کرنا، وعدہ پورا کردینا۔

(ع - ہ، ص:488، ط:فیروز سنز)

المعجم الوسیط میں ہے:

"(عهد) فلان إلى فلان عهدا ألقى إليه العهد وأوصاه بحفظه ويقال عهد إليه بالأمر وفيه أوصاه به والشيء عرفه يقال الأمر كما عهدت كما عرف وفلانا تردد إليه يجدد العهد به وفلانا بمكان كذا لقيه فيه فهو عهد... (عهد) المكان أصابه مطر العهاد فهو معهود".

(باب العین، ج:2، ص:633، ط:دار الدعوة)

القاموس الوحید میں ہے:

عَهِدَ الي فلانٍ ۔ عَهداً: وصیت کرنا، ذمہ داری سپرد کرنا، قسم دینا۔

عَاھَدَہُ: معاہدہ کرنا، امان دینا، کسی بات کا عہد کرنا، وعدہ کرنا، عہدوپیمان کرنا۔

المُعَاھِدُ: معاہدہ کنندہ، کسی ذمہ داری کو قبول کرنا، کسی بات کا عہد کرنے والا۔

(بابُ العَین، ع ـ ہ، ص:914، ط:اداره اسلاميات)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100993
تاریخ31-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں